آپ کس کا ساتھ دیں گے؟

Ask Pakistan

ایک طرف چند گلوکاروں اور نیک دل بھارتیوں نے پاکستان کا ترانہ گا کر ہمیں تحفہ بھیجا دوسری طرف سنا ہے کہ انڈیا کے چند ہیکرز نے پاکستان کی چند سرکاری ویب سائٹس ہیک کر لیں۔ ایک نے امن و محبت کا چراغ جلایا تو دوسرے نے نفرت کے پرانے بیانیے کو تازہ کیا۔ بہادر کون ہے؟ وہ جو نفرت کے دھارے میں بہنے کی بجائے کھل کر، اپنی شناخت کے ساتھ محبت کا درس بانٹ رہے ہیں یا وہ جو چھپ کر وار کر رہے ہیں۔ آپ کس کا ساتھ دیں گے؟ آپ زید حامدوں اور بال ٹھاکروں کے نفرت کے علم بلند رکھنے میں ان کا ہاتھ بٹھائیں گے یا گلزار اور فراز کے محبت کے لکھے گیت گائیں گے؟ آپ کس کا بیانیہ مضبوط کریں گے۔ امن اور نفرت کے پرچارکوں میں سے آپ کی حمایت کا مستحق کون ہوگا؟

آپ کے فیصلے سے آپ کا اور آپ کے بچوں کا مستقبل طے ہوگا۔

ھماری عسکری قیادت کہتی ھے۔ ھمارے مشرقی دشمن اور مغربی دشمن کا بارود ختم ھو جائے گا، لیکن ھمارے جوانوں کی چھاتیاں ختم نہیں ھوں گی۔ جبکہ ہماری سیاسی طاقتیں امن اور ترقی کی بات کرتی ھے۔ وہ کہتی ھیں ھمارے جوانوں کو روزگار کی ضرورت ھے۔

آپ کو کیسا پاکستان چاھیے، ایک گیریزن سیکیورٹی اسٹیٹ ھمیشہ حالت جنگ میں جس کی فضاؤں میں جنگی ترانے گونجتے رھیں۔ اور لہو بہتا رھے۔ یا ایک جمہوری پرامن ویلفیئر اسٹیٹ جہاں ترقی ھو۔ کارخانے چل رھے ھوں ۔ اور لوگ زندگی کی بنیادی ضروریات حاصل کر رھے ھوں۔

اھل یورپ نے دو عظیم جنگوں میں لاکھوں لوگوں کو مروا کر امن کا سبق سیکھا تھا۔ اور آج صدیوں کے ازلی دشمن ایک ملک یا دوست ممالک کے گروہ کی شکل میں امن و سکون ، خوشحالی اور ترقی کی زندگی گزار رھے ھیں۔

ایسا نہیں ہوا تھا کہ دو قومیں آپس میں لڑ پڑیں تھی تو دو سیاسی پارٹیوں نے انہیں الگ الگ ملک دلوا دیے تھے۔

ہوا یہ تھا کہ دو سیاسی پارٹیاں آپس میں لڑ پڑیں تھیں تو انھوں نے دو قوموں کو مذہب کی بنیاد پر لڑوا کر الگ الگ ملک حاصل کر لیے تھے۔

یہی کھیل مسلسل جاری ہے۔

14 اگست کی تقریبات کا رنگ دیکھ کر لگتا ہے پاکستان دوسری جنگ عظیم جیت کر پاک فوج نے برطانوی راج سے آزاد کرایا تھا. آپ کی خدمات ملکی دفاع میں قابل تحسین سہی مگر خدارا اس ملک کی خوشیوں کو جنگی تیاریوں میں تبدیل نہ کریں. توازن بہرحال برقرار رہنا چاھیے.

جب ملک میں تمام ادارے تباہ کر دیے جائیں یا ڈیویلپ ہی نہ کریں اور صرف فوج کا ادارہ ہی بچ جائے تو پھر فطرت کے قوانین کے تحت یہی ہوتا ہے کہ ہر چیز پر اسی کی چھاپ نظر آتی ہے.

پاکستان نے اپنی آزادی سے لیکر آج تک چونکہ صرف ایک ہی ادارہ بنایا ہے تو ملکی بجٹ کا بڑا حصہ بھی وہیں جاتا ہے اور فوج براہ راست یا بالواسطہ ہماری سیاست پر بھی اثرانداز رہی ہے۔ اس سب کے نتیجے میں ہمارے پاس ٹینک اور بم تو دکھانے کیلئے بہت ہیں لیکن عام آدمی کے پیٹ میں روٹی یا انکے لیئے تعلیم، صاف پانی اور صحت وغیرہ کی سہولیات نہیں۔ اور قومی دنوں کے مواقع پر جو پلے ہوتا ہے یا جو کسی قوم نے کمایا ہوتا ہے وہی نظر آتا ہے لہذا ہم اپنے اسلحے کی ہی نمائش کرتے نظر آتے ہیں.

Posted Aug 14, 2017, 7:21 PM UTC

728
Loading comments…